ممبئی،26اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر اسمبلی کے لیے نو منتخب 176 رکن اسمبلی مجرمانہ الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔انتخابات کی نگرانی تنظیم ’ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس‘ (اے ڈی آر) کی طرف سے ہفتہ کو جاری اعداد و شمار میں یہ دعوی کیا گیا ہے۔ریاستی اسمبلی کے کل 288 اراکین اسمبلی میں 285 اراکین اسمبلی کے حلف ناموں کا تجزیہ کرنے پر پتہ چلا ہے کہ 62 فیصد (176 رکن اسمبلی) کے خلاف فوجداری مقدمہ زیر التوا ہیں، جبکہ 40 فیصد (113 رکن اسمبلی) کے خلاف سنگین مجرمانہ معاملے ہیں۔ اے ڈی آر نے کہا ہے کہ باقی تین ممبران اسمبلی کے حلف نامے کا مطالعہ نہیں کیا جا سکا کیونکہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ان کے مکمل کاغذات دستیاب نہیں تھے۔سبکدوش ہونے والے ممبران اسمبلی اور نو منتخب اراکین اسمبلی کے حلف ناموں کا موازنہ کرتے ہوئے اے ڈی آر نے کہا ہے کہ 2014 کے انتخابات میں ریاست اسمبلی میں 165 رکن اسمبلی فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے تھے اور ان میں سے 115 سنگین مجرمانہ الزامات کا سامنا کر رہے تھے۔اے ڈی آر کے مطابق سبکدوش ہونے والے اسمبلی کے مقابلے میں نئی اسمبلی میں ایس ایس کیا ممبران اسمبلی کی تعداد زیادہ ہے۔اعدادوشمار کے مطابق نئی اسمبلی میں کل 264 (93 فیصد) کروڑ پتی رکن اسمبلی ہیں جبکہ سبکدوش ہونے والے اسمبلی میں 253 (88 فیصد) ممبر اسمبلی کروڑپتی تھے۔رپورٹ میں کہا گیاکہ نئی اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی اوسط جائیداد 22.42 کروڑ روپے ہے، جو 2014 میں 10.87 کروڑ روپے تھی۔اس بار کے انتخابات میں کم از کم 118 ایم ایل اے دوبارہ منتخب ہوئے اور 2019 میں دوبارہ منتخب ہوئے ممبران اسمبلی کی اوسط جائیداد 25.86 کروڑ روپے ہے۔انتخابات کی نگرانی تنظیم ’ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہریانہ کے نو منتخب 90 ممبران اسمبلی میں سے 84 رکن اسمبلی کروڑ پتی ہیں۔اے ڈی آر رپورٹ کے مطابق کروڑپتی ممبران اسمبلی کی تعداد میں 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے مطابق ہریانہ میں فی موجودہ ممبران اسمبلی کی پراپرٹی کی اوسط 18.29 کروڑ روپے ہے جبکہ 2014 میں یہ 12.97 کروڑ روپے تھی۔اے ڈی آر کے تجزیہ کے مطابق بی جے پی کے 40 میں سے 37 ممبران اسمبلی اور کانگریس کے 31 میں سے 29 ممبران اسمبلی کروڑ پتی ہیں۔دشینت چوٹالہ کی جننایک جنتا پارٹی (ججپا) کے 10 ممبر اسمبلی سب سے امیر ہیں جن کی اوسط جائیداد 25.26 کروڑ روپے ہے۔رپورٹ کے مطابق 57 ممبران اسمبلی کی عمر 41 سے 50 سال کے درمیان ہے، 62 ممبران اسمبلی کے پاس گریجویشن یا اس سے اوپر کی ڈگری ہے۔رپورٹ کے مطابق 90 ممبران اسمبلی میں سے 12 پر مجرمانہ معاملے چل رہے ہیں جبکہ سبکدوش ہونے والے اسمبلی میں ایسے ممبران اسمبلی کی تعداد نو ہے۔اس کے مطابق فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ممبران اسمبلی میں سے چار کانگریس سے، دو بی جے پی سے اور ایک ججپا سے ہیں۔